حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ثَقُلَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ: «ادْنُ مِنِّي» فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَغْلَقَ الْبَابَ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَامُوا عَلَى الْبَابِ، فَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بِأَبِي أَنْتَ طَيِّبًا حَيًّا، وَطَيِّبًا مَيِّتًا، وَسَطَعَتْ رِيحٌ طَيِّبَةٌ لَمْ يَجِدُوا مِثْلَهَا قَطُّ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَدْخِلُوا عَلَيَّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَشَدْنَاكُمْ بِاللهِ فِي نَصِيبِنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلُوا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ يَحْمِلُ جَرَّةً بِإِحْدَى يَدَيْهِ، فَسَمِعُوا صَوْتًا فِي الْبَيْتِ: لَا تُجَرِّدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاغْسِلُوهُ كَمَا هُوَ فِي قَمِيصِهِ، فَغَسَّلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ الْقَمِيصِ، وَالْفَضْلُ يُمْسِكُ الثَّوْبَ عَنْهُ، وَالْأَنْصَارِيُّ يَنْقُلُ الْمَاءَ، وَعَلَى يَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِرْقَةٌ وَيُدْخِلُ يَدَهُ
ترجمہ

…سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کی بیماری شدید ہوئی اور آپ کے پاس سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں، اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو اپنا سر اٹھایا، پھر فرمایا: ”میرے قریب آؤ۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے سہارے بیٹھ گئے اور برابر آپ ﷺ کے پاس رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی۔ جب آپ ﷺ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور دروازہ بند کر دیا، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ بنو عبدالمطلب کو لے کر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور موت میں بھی پاکیزہ ہیں، اور ایک خوشبو پھیلی جیسی خوشبو انہوں نے کبھی نہیں پائی تھی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا فضل بن عباس کو میرے پاس داخل کرو۔ اس پر انصار نے کہا: ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ہمارا (بھی) حصہ رکھا جائے، چنانچہ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو، جسے سیدنا اوس بن خولی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، اندر داخل کیا، وہ ایک ہاتھ میں گھڑا اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے گھر میں سے ایک آواز سنی: رسول اللہ ﷺ کو برہنہ نہ کرو، اور انہیں اسی طرح غسل دو جیسے وہ اپنی قمیص میں ہیں۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل دیا، وہ قمیص کے نیچے اپنا ہاتھ داخل کرتے، اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کپڑا ان سے تھامے رکھتے، اور انصاری صحابی پانی دیتے رہتے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایک کپڑا تھا اور وہ اپنا ہاتھ (اس کپڑے کے ساتھ) داخل کرتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 625
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 229، حدیث 629