حدیث نمبر: 6231
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَيْنِ، قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلِيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى، فَقَالَ: «عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ كَنْزًا؟» قَالُوا: دِينَارَيْنِ، قَالَ: «كَيَّتَانِ» وَصَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک شخص کا جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ دونوں میرے ذمے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی خزانہ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو داغ ہیں۔“ اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6231
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 22، حدیث 6258