المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو مريم عبد الغفار بن القاسم، عن إياس بن سلمة باب: ابومریم عبدالغفار بن قاسم کی ایاس بن سلمہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَيْنِ، قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلِيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى، فَقَالَ: «عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ كَنْزًا؟» قَالُوا: دِينَارَيْنِ، قَالَ: «كَيَّتَانِ» وَصَلَّى عَلَيْهِسیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک شخص کا جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ دونوں میرے ذمے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی خزانہ چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو داغ ہیں۔“ اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔