المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن سلمة بن الأكوع باب: عبدالرحمن بن کعب بن مالک کی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ الْجَنَدِيُّ، ثنا أَبُو حَمَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا، أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ جَرِيحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ إِلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَشَكُّوا فِيهِ , رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ سَلَمَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي بِأَنْ أَرْتَجِزَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا تَقُولُ؟ فَقُلْتُ:
[البحر الرجز]
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَمَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ» ،
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الَّذِينَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا
فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ هَذِهِ؟» قُلْتُ: قَالَهَا أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُهُ اللهُ» فَقُلْتُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ: رَجُلٌ قُتِلَ بِسِلَاحِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ: يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ: «كَذَبُوا، مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ» قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعَيْهِسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا کہہ رہے ہو؟ تو میں نے یہ رجز پڑھا: ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“ ”پس ہم پر سکینت نازل فرما، اور اگر مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے، بے شک جنہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے، جب وہ فتنہ چاہیں گے تو ہم انکار کریں گے۔“ جب میں نے اپنا رجز مکمل کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”یہ کس نے کہا؟“ میں نے عرض کیا: میرے بھائی نے کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم فرمائے۔“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! کچھ لوگ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ شخص اپنے ہی ہتھیار سے مارا گیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کوشش کرتے ہوئے مجاہد کی موت مرا ہے۔“ زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے اپنے والد سے وہی روایت سنائی جو عبدالرحمٰن نے مجھے سنائی تھی، سوائے اس کے کہ ابنِ سلمہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے، جب میں نے کہا کہ وہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں، فرمایا: ”انہوں نے جھوٹ کہا، وہ کوشش کرتے ہوئے مجاہد کی موت مرا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔