حدیث نمبر: 6202
حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ زَبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَخَاهُ لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيْبَرَ قَاتَلَ قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ: مَاتَ بِسِلَاحِهِ، وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ قُلْتُ لَهُ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ أَرْجُزُ بِكَ؟ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ , فَقُلْتُ:
[البحر الرجز]
وَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ»
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... قَالُوا اكْفُرُوا , قُلْنَا لَهُمْ أَبَيْنَا
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْقَائِلُ هَذِهِ الْأَبْيَاتَ؟» قُلْتُ: أَخِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرْحَمُهُ اللهُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي , عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَدْ قَالَ مَعَ ذَلِكَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، وَلَهُ أَجْرَانِ» ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ، فَحَرَّكَهُمَا
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو کیا کہہ رہے ہو، تو میں نے یہ رجز پڑھا: ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“ ”پس ہم پر سکینت نازل فرما، اور اگر مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے، اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے، انہوں نے کہا: کفر کرو، ہم نے کہا: ہم انکار کرتے ہیں۔“ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”یہ اشعار کس نے کہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے بھائی نے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم فرمائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، کچھ لوگ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ شخص اپنے ہی ہتھیار سے مرا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کوشش کرتے ہوئے مجاہد کی موت مرا ہے۔“ محمد بن مسلم زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے اپنے والد سے وہی روایت سنائی جو عبدالرحمٰن نے مجھے سنائی تھی، سوائے اس کے کہ ابنِ سلمہ نے اس کے ساتھ یہ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کوشش کرتے ہوئے مجاہد کی موت مرا ہے، اسے دو اجر ملیں گے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا اور انہیں حرکت دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6202
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 9، حدیث 6228