❮
❯
حدیث نمبر: 6148
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ سَلْمَانَ عَلَى شَطِّ دِجْلَةَ، فَقَالَ: يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ انْزِلْ، فَاشْرَبْ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبْ فَشَرِبْتُ، قَالَ: مَا نَقَصَ شَرَابُكَ مِنْ دِجْلَةَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا عَسَى أَنْ يَنْقُصَ، قَالَ: فَإِنَّ الْعِلْمَ كَذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَا يَنْقُصُ، ثُمَّ قَالَ: ارْكَبْ فَمَرَرْنَا بِأَكْدَاسٍ مِنْ حِنْطَةٍ وَشَعِيرٍ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا فَتَحَ لَنَا؟ وقَتَّرَ عَلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَيْرٍ لَنَا وَشَرٍّ لَهُمْ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: وَلَكِنِّي أَدْرِي، شَرٌّ لَنَا وَخَيْرٌ لَهُمْ، «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ، حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

بنو عبس کے ایک شخص بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دجلہ کے کنارے چل رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اے بنو عبس کے بھائی! اترو اور پانی پیو۔ میں نے پیا، پھر فرمایا: اور پیو۔ میں نے پیا۔ فرمایا: تمہارے پینے سے دجلہ میں کتنی کمی ہوئی؟ میں نے عرض کیا: اس میں کیا کمی ہو سکتی ہے! فرمایا: علم بھی اسی طرح ہے، اس سے لیا جاتا ہے اور وہ کم نہیں ہوتا۔ پھر فرمایا: سوار ہو جاؤ۔ پھر ہم گندم اور جو کے ڈھیروں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ (دنیا) ہمارے لیے کھولی گئی اور اصحابِ محمد ﷺ پر تنگ کی گئی، یہ ہمارے لیے بھلائی اور ان کے لیے برائی ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے معلوم نہیں۔ فرمایا: ”لیکن مجھے معلوم ہے، یہ ہمارے لیے برائی اور ان کے لیے بھلائی ہے، رسول اللہ ﷺ لگاتار تین دن تک سیر ہو کر نہیں کھاتے تھے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل سے جا ملے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6148
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 265، حدیث 6173