❮
❯
حدیث نمبر: 6147
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ حِينَ أَتَيْتُ الْمَدَائِنَ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خُلْقَانٌ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْرِكُهُ، فَالْتَفَتُّ فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ: مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللهِ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالُوا: هَذَا سَلْمَانُ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بِيَاضًا، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَخَذَ بِيَدِي وصَافَحَنِي وَسَاءَلَنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، مَا رَأَيْتُنِي فِيمَا مَضَى وَلَا رَأَيْتُكَ وَلَا عَرَفْتَنِي، قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عَرَفَ رُوحِي رُوحُكَ حِينَ رَأَيْتُكَ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللهِ ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللهِ اخْتَلَفَ»
ترجمہ

حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں: جب میں مدائن پہنچا تو چل پڑا، اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی جس پر پرانے کپڑے تھے اور اس کے پاس سرخ چمڑا تھا جسے وہ مل رہا تھا۔ میں نے (اس کی طرف) رخ کیا تو اس نے میری طرف دیکھا اور ہاتھ سے اشارہ کیا: اے اللہ کے بندے! اپنی جگہ ٹھہرو۔ میں کھڑا ہو گیا اور اپنے پاس موجود لوگوں سے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر وہ اپنے گھر میں گئے اور سفید کپڑے پہنے، پھر آئے، میرا ہاتھ پکڑا، مجھ سے مصافحہ کیا اور میرا حال پوچھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! نہ آپ نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہے، نہ میں نے آپ کو دیکھا ہے اور نہ آپ مجھے جانتے ہیں۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب میں نے تمہیں دیکھا تو میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”روحیں الگ الگ جماعتوں میں ہیں، جو ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر مانوس ہو جائیں وہ آپس میں مل جاتی ہیں، اور جو ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر نامانوس رہیں وہ اختلاف کرتی ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6147
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 264، حدیث 6172