حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ الْمَوْصِلِيِّ، قَالَ: " لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ صَوْتًا: لِيَبْكِ عَلَى الْإِسْلَامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا، فَقَدْ أوْشَكُوا هَلْكَى وَمَا قَدِمَ الْعَهْدُ، وَأَدْبَرَتِ الدُّنْيَا، وَأَدْبَرَ خَيْرُهَا، وَقَدْ مَلَّها مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِالْوَعْدِ "
ترجمہ

معروف بن ابی معروف موصلی بیان کرتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو میں نے ایک آواز سنی: ”جو رونا چاہے وہ اسلام پر روئے، لوگ ہلاکت کے قریب ہیں حالانکہ زمانہ ابھی پرانا نہیں ہوا، دنیا پیٹھ پھیر چکی ہے اور اس کی بھلائی جا چکی ہے، اور جو وعدے پر ایمان رکھتا تھا وہ اس سے اکتا چکا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 61
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 68، حدیث 62