المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن سلمان الأحول، عن أبي عثمان النهدي باب: عاصم بن سلمان احول کی ابوعثمان نہدی سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: تُعْطَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَرَّ عَشْرِ سِنِينَ، ثُمَّ تُدْنَى مِنْ جَماجِمِ النَّاسِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -، قَالَ: فَيَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنْتَ الَّذِي فَتْحَ اللهُ بِكَ، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَقَدْ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، فَيَقُولُ: «أَنَا صَاحِبُكُمْ» ، فَيَخْرُجُ يَحُوشُ النَّاسَ، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَأْخُذُ بِحَلْقَةٍ فِي الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيَجِيءُ حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ، فَيَسْجُدَ، فَيُنَادِي ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهُ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ "سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... تو لوگ کہیں گے: اے اللہ کے نبی! آپ ہی وہ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے فتح فرمائی، اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے، اور آپ ہماری یہ حالت دیکھ ہی رہے ہیں، پس ہمارے رب کے پاس ہماری سفارش کریں۔ آپ ﷺ فرمائیں گے: ”میں ہی تمہارا ساتھی ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نکل کر لوگوں کو ہانکتے ہوئے چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ آپ ﷺ دروازے کی سونے کی کنڈی پکڑیں گے اور دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو پوچھا جائے گا: کون ہے؟ جواب دیا جائے گا: محمد۔ آپ ﷺ کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ آپ ﷺ آگے بڑھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ندا دے گا: اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ یہی مقامِ محمود ہے۔