حدیث نمبر: 6004
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ، قَالَ: حَضَرْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَطَلَعَ أَبُوهُ سَهْلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ لَهُ، فَصَاحَ بِالْحَجَّاجِ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قَالَ: «أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ» ، فَأَرْسَلَهُ
سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ الْقُرَشِيُّ ثُمَّ الْفِهْرِيُّ " بَدْرِيٌّ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، نِسْبَتُهُ وَهُوَ سُهَيْلُ بْنُ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَهْيَبَ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، وَبَيْضَاءُ أُمُّهُ، وَاسْمُهَا: دَعْدُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ جَحْذَمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ «
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... انہوں نے حجاج کو پکار کر کہا: کیا تمہیں ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی وصیت یاد نہیں؟ اس نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے تمہارے بارے میں کیا وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار کے نیک لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان کے برے لوگوں کو معاف کر دیا جائے۔“ چنانچہ اس نے انہیں چھوڑ دیا۔

سہیل بن بیضاء القرشی پھر الفہری: بدری صحابی تھے، رسول اللہ ﷺ کی حیات میں مدینہ میں وفات پائی، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھائی۔ ان کا نسب یہ ہے: سہیل بن وہب بن ربیعہ بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن الحارث بن فہر، اور بیضاء ان کی والدہ کا نام تھا، جن کا اصل نام دعد بنت اسد بن جحذم بن امیہ بن الحارث بن فہر تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6004
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 208، حدیث 6028