المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بكر بن سوادة، عن سهل بن سعد باب: بکر بن سوادہ کی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو عَبَّادٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْغِفَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي سَأَزْدَرِدُ»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ خَالٍ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُجْ إِلَى الْغَابَةِ وَائْتِنِي مِنْ خَشَبِهَا، فَاعْمَلْ لِي مِنْبَرًا أُكَلِّمُ عَلَيْهِ النَّاسَ» ، فَعَمِلَ مِنْبَرًا عَتَبَتَانِ وَجَلَسَ عَلَيْهَاسیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے، جیسے جوتے کا ایک تسمہ دوسرے تسمے کے برابر ہوتا ہے۔“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے مسواک کرنے کی اتنی تاکید کی کہ مجھے خیال ہوا کہ میں اسے نگل ہی لوں گا۔“
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے ایک انصاری ماموں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جنگل جاؤ اور اس کی لکڑی میرے پاس لاؤ، پھر میرے لیے ایک منبر بنا دو جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کروں۔“ چنانچہ انہوں نے دو زینوں والا ایک منبر بنایا اور آپ ﷺ اس پر بیٹھے۔