المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خارجة بن مصعب الخراساني، عن أبي حازم باب: خارجہ بن مصعب خراسانی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5984
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلْغُلَامِ: «أُعْطِي الْأَشْيَاخَ؟» ، فَقَالَ الْغُلَامُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِكَ أَوْ بِفَضْلِكَ عَلَيَّ أَحَدًا، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ وَتَرَكَ الْأَشْيَاخَترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بزرگ لوگ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر لڑکے سے فرمایا: ”کیا میں یہ بزرگوں کو دے دوں؟“ لڑکے نے عرض کیا: میں آپ کے بچے ہوئے یا آپ کی طرف سے ملنے والی کسی چیز میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دوں گا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے وہ اسی کو دے دیا، اس نے پی لیا اور بزرگوں کو نہ دیا۔