المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يعقوب بن عبد الرحمن الزهري أصله مدني نزل الإسكندرية، عن أبي حازم باب: یعقوب بن عبدالرحمن زہری، اصلاً مدنی جو اسکندریہ میں رہائش اختیار کر گئے، کی ابوحازم سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي لِأَكْسُوَكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَسَّهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اكْسُنِيهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللهُ فِي الْمَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ، سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللهِ مَا سَأَلْتُ إِلَّا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ، قَالَ سَهْلٌ: «وَكَانَتْ كَفَنَهُ» ، قَالَ قُتَيْبَةُ: " كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍسیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... رسول اللہ ﷺ نے وہ چادر اپنی ضرورت کے باوجود پہن لی، پھر ہمارے پاس تشریف لائے، وہ آپ کا تہبند بنی ہوئی تھی۔ اس پر مجلس میں سے ایک شخص نے اسے چھو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مجھے پہنا دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ ﷺ جتنی دیر اللہ نے چاہی مجلس میں بیٹھے رہے، پھر واپس گئے، اسے تہہ کیا اور اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا، تم نے یہ آپ سے مانگ لی حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ صرف اس لیے مانگی تاکہ میرے مرنے کے دن یہ میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر وہی اس کا کفن بنی۔“