❮
❯
حدیث نمبر: 5771
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ عَلَى بَنِي سَاعِدَةَ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، قَالَ: «قَدْ أَعَاذَكِ مِنِّي» ، فَقَالُوا لَهَا: تَدْرِينَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ. قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: «اسْقِنَا يَا أَبَا سَعْدٍ» ، قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ، فَسَقَيْتُهُمْ فِيهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ: " فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ، فَوَهَبَهُ لَهُ
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس کے پاس پیغام بھیجیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کے پاس بھیجا تو وہ آ گئیں اور بنو ساعدہ کے ہاں اتریں۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نکلے یہاں تک کہ ان کے پاس آئے، جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں مجھ سے پناہ دے دی۔“ لوگوں نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون ہیں؟ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، تمہارا رشتہ مانگنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں تو اس سے کہیں زیادہ بدبخت ہوں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اسی دن تشریف لائے یہاں تک کہ سقیفۂ بنو ساعدہ میں بیٹھے، آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ، پھر فرمایا: ”اے ابوسعد! ہمیں پانی پلاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور اسی میں انہیں پلایا۔ ابوحازم کہتے ہیں: ”تو سہل رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے وہی پیالہ نکالا، ہم نے اسی میں پیا، پھر بعد میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے وہ پیالہ مانگا تو انہوں نے وہ انہیں ہبہ کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5771
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 145، حدیث 5792