المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غسان محمد بن مطرف عن أبي حازم باب: ابوغسان محمد بن مطرف کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدُ؟ قَالَ الْقَوْمُ: هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ، فِيهَا حَاشِيَتُهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ: جِئْتُ أَكْسُوكَ هَذِهِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَلَبِسَهَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاكْسُنِيهَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَامَهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالُوا: مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعُهُ، قَالَ: وَاللهِ مَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ إِلَّا رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَاسیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے بُرد کیا ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ایک بنی ہوئی چادر ہوتی ہے جس کا کنارہ ہوتا ہے۔ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو یہ پہنانے آئی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اس حال میں لیا کہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت تھی اور اسے پہن لیا۔ آپ ﷺ کے ایک صحابی نے اسے آپ ﷺ پر دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کتنی اچھی ہے، یہ مجھے پہنا دیجیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ جب رسول اللہ ﷺ اٹھے تو آپ ﷺ کے صحابہ نے اس کو ملامت کی اور کہا: تم نے اچھا نہیں کیا، جبکہ تم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اس حال میں لیا کہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت تھی، پھر تم نے اسی سے وہ مانگ لی، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ ﷺ سے جو بھی مانگا جاتا ہے وہ کبھی انکار نہیں فرماتے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کام پر صرف یہ چیز آمادہ کر پائی کہ رسول اللہ ﷺ کے اسے پہننے کی وجہ سے مجھے اس کی برکت کی امید تھی، شاید میں اسی میں کفنایا جاؤں۔