❮
❯
حدیث نمبر: 5738
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وحَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: مَا يُبْكِهِمَا؟ قَالَتِ: الْجُوعُ، قَالَ: فَأَرْسِلِي إِلَى أَبِيكِ، فَأَرْسَلَتْ، فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ فَضْلَةُ تَمْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَتَكَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِنْ كَانَ عِنْدَكَ شَيْءٌ فَأَبْلِغْنَاهُ، فَإِنَّ حَسَنًا، وَحُسَيْنًا يَبْكِيَانِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّسُولَ فَحَمَلَهُ إِلَيْهِمَا، فَجَاءَ بِهِ فَاطِمَةَ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيْهَا وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا وَجَدَ غَيْرَ هَذَا؟ قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا فِي هَذَا مَا يُسَكِّنُهُمَا، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَوَجَدَ دِينَارًا فِي السُّوقِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا وَقَالَ: هَذَا الدِّينَارُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اذْهَبْ بِهِ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ، فَخُذْ لَنَا مِنْهُ دَقِيقًا، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ بِهِ فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا وَقَالَ: هَذَا الدِّينَارُ، قَالَتِ: فاطمة: اذْهَبْ بِهِ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ، فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، نُرْسِلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأكُلُ مَعَنَا، فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهِ، فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَجَاءَهَا فَإِذَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ، وَإِذَا اللَّحْمُ يَغْلِي، وَإِذَا دَقِيقٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَذْكُرُ لَكَ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَا وَأَكَلْتَ، مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: «كُلُوا بِسْمِ اللهِ» ، فَأَكَلُوا فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ، إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ الدِّينَارَ بِاللهِ وَبِالْإِسْلَامِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي بِدِينَارٍ أَشْتَرِي بِهِ، فَسَقَطَ مِنِّي بِالسُّوقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ "، فَأَرْسَلَ بِهِ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: انہیں کیوں رونا آ رہا ہے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھوک کی وجہ سے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے والد کے پاس کسی کو بھیجو۔ چنانچہ انہوں نے بھیجا۔ قاصد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ کے سامنے کھجوروں کا کچھ بچا ہوا حصہ تھا۔ اس نے کہا: آپ کی بیٹی کہتی ہیں، یا رسول اللہ! اگر آپ کے پاس کچھ ہو تو ہمیں پہنچا دیں، کیونکہ حسن اور حسین رو رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے قاصد کو حکم دیا تو وہ کھجوریں اسے دے کر ان کی طرف بھجوا دیں۔ وہ انہیں لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے جبکہ وہ کھجوریں ان کے سامنے تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا انہیں اس کے سوا کچھ نہ ملا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں تو اتنا کچھ نہیں کہ یہ دونوں چپ ہو جائیں۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے تو انہیں بازار میں ایک دینار ملا، وہ اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا اور کہا: یہ دینار ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسے فلاں یہودی کے پاس لے جاؤ اور اس سے ہمارے لیے آٹا لے لو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے اور یہودی کے پاس آئے اور اس سے آٹا خریدا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو یہودی نے کہا: کیا تم اس شخص کے داماد ہو جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تو اپنا دینار لے لو اور آٹا تمہارے لیے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نکلے یہاں تک کہ اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا اور کہا: یہ دینار ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسے فلاں قصاب کے پاس لے جاؤ اور ایک درہم کا گوشت لے لو، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجیں گے تو وہ ہمارے ساتھ کھائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے تو دینار ایک درہم کے عوض گروی رکھ دیا اور گوشت لے آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، توا رکھا اور روٹی پکائی، پھر اپنے والد کے پاس کسی کو بھیجا۔ آپ ﷺ ان کے پاس آئے تو دیکھا کہ ایک بڑا برتن ہے جس میں روٹی ہے، اور گوشت ابل رہا ہے، اور آٹا بھی ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو بتا دوں، اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور آپ بھی کھائیں - اس کا معاملہ ایسا ایسا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بسم اللہ کہہ کر کھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے کھایا۔ وہ ابھی وہیں تھے کہ ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنا دینار تلاش کر رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا اور آپ ﷺ نے اس سے پوچھا، اس نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا تھا کہ میں اس سے کچھ خریدوں، وہ بازار میں مجھ سے گر گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قصاب کے پاس جاؤ اور کہو: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ دینار میرے پاس بھیج دو، تمہارا درہم مجھ پر ہے۔“ چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے وہ اس لڑکے کو دے دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5738
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 136، حدیث 5759