حدیث نمبر: 5618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: اشْتَكَى قَوْمٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ سَكَنُوا دَارًا وَهُمْ عَدَدٌ، فَفَنَوْا، قَالَ: «فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهَا وَهِيَ ذَمِيمَةٌ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ وہ ایک گھر میں رہائش پذیر تھے اور بڑی تعداد میں تھے، پھر ان کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا جبکہ وہ منحوس ہے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5618
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 104، حدیث 5639