المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن عبيد القارئ باب: سیدنا سعید بن عبید قاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُدْعَى فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقَارِئَ، وَكَانَ لَقِيَ عَدُوًّا فَانْهَزَمَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هَلْ لَكَ فِي الشَّامِ لَعَلَّ اللهَ يَمُنُّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا الْعَدُوَّ الَّذِي فَرَرْتَ مِنْهُمْ» ، قَالَ: فَخَطَبَهُمْ بِالْقَادِسِيَّةِ فَقَالَ: «أَلَا إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ إِنْ شَاءَ اللهُ غَدًا، وإِنَّا مُسْتَشْهَدُونَ، فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا دَمًا، وَلَا نُكَفَّنُ إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا»سیدنا سعید بن عبید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ”قاری“ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ایک بار ان کا دشمن سے سامنا ہوا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں شام جانے کی خواہش ہے، شاید اللہ تم پر احسان فرمائے؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، بلکہ اسی دشمن کے پاس جانا چاہتا ہوں جس سے میں بھاگا تھا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے قادسیہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”سن لو! ہم کل، اگر اللہ نے چاہا، دشمن سے ملاقات کریں گے اور شہید ہو جائیں گے، پس ہم سے خون نہ دھونا، اور ہمیں اسی کپڑے کے سوا جو ہمارے (بدن پر) ہے کسی اور کفن میں نہ لپیٹنا۔“