المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد أبو عبد العزيز غير منسوب باب: سیدنا سعید ابوعبدالعزیز رضی اللہ عنہ (نسب معلوم نہیں)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْغَفُورِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ: وَكَانَتْ لِأَبِيهِ صُحْبَةٌ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ، يُضَاعِفُ اللهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ، فَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَئْنِفِ الْعَمَلَ، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبًا، وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا، فَجَرَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، آخِرُ ذَلِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ أُهْبِطَ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَ نُوحٌ وَمَنْ مَعَهُ وَالْوَحْشُ شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ أفْلَقَ اللهُ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ تَابَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَدِينَةِ يُونُسَ، وَفِيهِ وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»عبدالعزیز اپنے والد سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں - عثمان کہتے ہیں کہ ان کے والد کو صحابیت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رجب بہت عظمت والا مہینہ ہے، اللہ اس میں نیکیوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جو شخص رجب میں ایک دن کا روزہ رکھے تو گویا اس نے ایک سال کے روزے رکھے، اور جو اس میں سات دن کا روزہ رکھے تو اس سے جہنم کے سات دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور جو اس میں آٹھ دن کا روزہ رکھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جو اس میں دس دن کا روزہ رکھے تو وہ اللہ سے جو کچھ بھی مانگے، اللہ اسے عطا فرما دیتا ہے، اور جو اس میں پندرہ دن کا روزہ رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے کہ تیرے پچھلے گناہ بخش دیے گئے، اب نئے سرے سے عمل شروع کر، اور جو (اس سے) زیادہ کرے تو اللہ عزوجل اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔ اور رجب ہی میں اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار کیا، چنانچہ انہوں نے رجب کے روزے رکھے اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، تو کشتی انہیں لے کر چھ مہینے تک چلتی رہی، اور آخر میں عاشوراء کے دن جودی پہاڑ پر اتری، چنانچہ نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے، اور جانوروں نے بھی، اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا۔ اور عاشوراء کے دن ہی اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا، اور عاشوراء کے دن ہی اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی اور یونس علیہ السلام کی قوم کی بھی، اور اسی دن ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔“