المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي " كان ينزل حمص، وهو سعيد بن عامر بن حذيم بن سلامان بن ربيعة بن حرقوس بن سعد بن جمح، وأمه أروى بنت أبي معيط بن أبي عمرو بن أمية بن عبد شمس باب: سیدنا سعید بن عامر بن حذیم جمحی رضی اللہ عنہ، حمص میں رہتے تھے، وہ سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن حرقوس بن سعد بن جمح ہیں، ان کی والدہ اروی بنت ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبدشمس تھیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَرِيعٍ الْكُوفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ، أَنَّهُ لَا يَدَّخِرُ فِي بَيْتِهِ مِنَ الْحَاجَةِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِعَشْرَةِ آلَافٍ فَأَخَذَهَا، فَجَعَلَ يُفَرِّقُهَا صُرَرًا، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِهَذِهِ، قَالَ: أَذْهَبُ بِهَا إِلَى مَنْ يُرَجِّحُ لَنَا فِيهَا، فَمَا أَبْقَى مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا، فَلَمَّا نَفَذَ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُمْ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: اذْهَبْ إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِكَ الَّذِينَ أَعْطَيْتَهُمْ يُرَجِّحُونَ لَكَ فَخُذْ مِنْ أرْبَاحِهِمْ، وَجَعَلَ يُدَافِعُهَا ويُمَاطِلُهَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّ حُورًا أَطْلَعَتْ أُصْبُعًا مِنْ أَصَابِعِهَا لَوَجَدَ رِيحَهَا كُلُّ ذِي رُوحٍ» ، فَأَنَا أَدَعُهُنَّ، لَكِنْ وَاللهِ لَأَنْتُنَّ أَحَقُّ أَنْ أَدَعَكُنَّ لَهُنَّ مِنْهُنَّ لَكُنَّعبدالرحمن بن سابط، سیدنا سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے گھر میں ضرورت کی کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے، تو انہوں نے ان کے پاس دس ہزار (درہم) بھیجے۔ انہوں نے وہ رقم لے کر اسے تھیلیوں کی صورت میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ ان کی بیوی نے پوچھا: یہ رقم لے کر کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں یہ ان لوگوں کے پاس لے جا رہا ہوں جو ہمارے لیے اس میں نفع کا سبب بنیں گے، اور اس میں سے صرف تھوڑی سی رقم باقی رکھی۔ جب ان کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا تو ان کی بیوی نے کہا: اپنے کسی ساتھی کے پاس جاؤ جنہیں تم نے مال دیا ہے، وہ تمہارے لیے منافع کما رہے ہیں، ان کے منافع میں سے کچھ لے لو۔ اور وہ ٹالتے اور موخر کرتے رہے یہاں تک کہ یہ معاملہ طویل ہو گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اگر جنت کی کوئی حور اپنی ایک انگلی بھی ظاہر کر دے تو ہر جاندار اس کی خوشبو محسوس کر لے۔“ تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں؟ بلکہ اللہ کی قسم! تم (عورتیں) اس بات کی زیادہ حقدار ہو کہ میں تمہیں ان کی خاطر چھوڑ دوں، بہ نسبت اس کے کہ میں انہیں تمہاری خاطر چھوڑوں۔