المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعد الأخرم " كان ينزل الكوفة، وقد اختلف في صحبته " باب: سیدنا سعد اخرم رضی اللہ عنہ، کوفہ میں رہتے تھے، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ - يَشُكُّ الْأَعْمَشُ - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَنَظَرَ فَقَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ»مغیرہ بن سعد بن اخرم، اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں — اعمش کو (راوی میں) شک ہے — انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو تم پسند کرتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا جائے، اور جو تمہیں ناپسند ہو کہ تمہارے ساتھ کیا جائے، وہ لوگوں کے ساتھ کرنا چھوڑ دو۔“