حدیث نمبر: 5413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ مُمْعَطُ اللِّحْيَةِ، فَقُلْتُ: تَعْبَثُ بِلِحْيَتِكَ، فَقَالَ: «لَا، هَذَا مَا لَقِيتُ مِنْ ظَلَمَةِ أَهْلِ الشَّامِ، دَخَلُوا عَلَيَّ زَمَنَ الْحَرَّةِ، فَأَخَذُوا مَا كَانَ فِي الْبَيْتِ مِنْ مَتَاعٍ أَوْ حَرًى، ثُمَّ دَخَلَتْ عَلَيَّ طَائِفَةٌ أُخْرَى، فَلَمْ يَجِدُوا فِي الْبَيْتِ شَيْئًا، فَأَسِفُوا أَنْ يَخْرُجُوا بِغَيْرِ شَيْءٍ» ، فَقَالَ: «أَضْجِعُوا الشَّيْخَ، فَأَضْجَعُونِي، فَجَعَلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِي خُصْلَةً»
ترجمہ

ابوہارون عبدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی ڈاڑھی کے بال اکھڑے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: کیا آپ اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، یہ وہ ہے جو مجھے اہلِ شام کے ظالموں سے پہنچا۔ وہ حرہ کے واقعے میں میرے گھر میں گھس آئے اور گھر میں جو بھی سامان یا قیمتی چیز تھی لے گئے، پھر ایک اور گروہ میرے پاس آیا تو انہیں گھر میں کچھ نہ ملا، تو انہیں افسوس ہوا کہ وہ خالی ہاتھ واپس جائیں۔“ راوی نے کہا: انہوں نے کہا: ”بوڑھے کو لٹا دو۔“ چنانچہ انہوں نے مجھے لٹا دیا، اور ان میں سے ہر ایک میری ڈاڑھی سے ایک لٹ اکھاڑنے لگا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 34، حدیث 5432