❮
❯
حدیث نمبر: 5400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، حَتَّى مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا، فَرَأَيْتُ عَرِيشًا قَدْ رُشَّ بِالْمَاءِ، وَرَأَيْتُ زَوْجَتِي، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِالْإِنْصَافِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّمُومِ وَالْحَمِيمِ، وَأَنَا فِي الظِّلِّ وَالنَّعِيمِ، فَقُمْتُ إِلَى نَاضِحٍ فَاحْتَقَبْتُهُ، وإِلَى تُمَيْرَاتٍ فَتَزَوَّدْتُهَا، فَنَادَتْ زَوْجَتِي: إِلَى أَيْنَ يَا أَبَا خَيْثَمَةَ؟ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، لَحِقَنِي عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ جَرِيءٌ، وَإِنِّي أَعْرِفُ حَيْثُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي رَجُلٌ مُذْنِبٌ، فَتَخَلَّفْ عَنِّي حَتَّى أَخْلُوَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَخَلَّفَ عَنِّي عُمَيْرٌ، فَلَمَّا اطَّلَعْتُ عَلَى الْعَسْكَرِ، فَرَأَى النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ» ، فَجِئْتُ فَقُلْتُ: كِدْتُ أَهْلِكُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَدَعَا لِي
ترجمہ

سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ (کنیت ابوخیثمہ) بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ روانہ ہو گئے۔ پھر میں ایک باغ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک سائبان پر پانی چھڑکا گیا ہے، اور میں نے اپنی بیوی کو دیکھا، تو میں نے کہا: یہ انصاف کی بات نہیں کہ رسول اللہ ﷺ لو اور گرمی میں ہوں اور میں سایے اور آرام میں ہوں۔ چنانچہ میں کھڑا ہوا اور ایک پانی لانے والے اونٹ کی طرف گیا اور اسے لے لیا، اور تھوڑی کھجوریں لے کر زادِ راہ بنایا۔ میری بیوی نے پکارا: اے ابوخیثمہ! کہاں جا رہے ہو؟ میں رسول اللہ ﷺ کے ارادے سے نکلا، یہاں تک کہ جب میں راستے میں تھا تو عمیر بن وہب جمحی مجھ سے آ ملے۔ میں نے کہا: تم ایک بہادر آدمی ہو، اور مجھے معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ کہاں ہیں، اور میں ایک گنہگار آدمی ہوں، تو مجھ سے پیچھے رہ جاؤ یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے تنہائی میں مل لوں۔ چنانچہ عمیر میرے پیچھے رہ گئے۔ جب میں لشکر کے قریب پہنچا اور لوگوں نے مجھے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوخیثمہ ہی ہو۔“ میں آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تباہ ہونے کے قریب تھا۔ پھر میں نے آپ کو اپنا واقعہ سنایا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اچھی بات کہی اور میرے لیے دعا فرمائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5400
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 31، حدیث 5419