المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ باب: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش کے ہلنے کا بیان
حدیث نمبر: 5325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ قَالَتْ: لَمَّا خُرِجَ بِجِنَازَةِ سَعْدٍ، صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَرْقَأُ دَمْعُكِ، وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ، فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ»ترجمہ
اسحاق بن راشد، انصار کی ایک عورت سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: جب سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ نکالا گیا تو ان کی والدہ چیخ اٹھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے آنسو نہیں تھمیں گے اور تمہارا غم نہیں جائے گا؟ بے شک تمہارا بیٹا پہلا شخص ہے جس پر اللہ نے خوشی سے مسکرایا، اور جس کے لیے عرش ہل گیا۔“