❮
❯
حدیث نمبر: 5291
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَشْجَعَ، يُقَالُ لَهُ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا بَدَوِيًّا لَا يَأْتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ إِلَّا بِطُرْفَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ يُهْدِيَهَا، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ يَبِيعُ سِلْعَةً وَلَمْ يَكُنْ أَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ وَرَائِهِ بِكَفَّيْهِ، فَالْتَفَتَ وَأَبْصَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَ كَفَّيْهِ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي الْعَبْدَ؟» قَالَ: إِذَنْ تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللهِ كَاسِدًا، قَالَ: «وَلَكِنَّكَ عِنْدَ اللهِ رَبِيحٌ»
ترجمہ

سیدنا زاہر بن حرام اشجعی رضی اللہ عنہ ایک دیہاتی آدمی تھے، وہ جب بھی نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تو کوئی عمدہ چیز یا تحفہ ہدیہ کرنے کے لیے لے کر آتے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بازار میں دیکھا، وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے اور (ابھی) آپ ﷺ کے پاس حاضر نہیں ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں پیچھے سے اپنے دونوں ہاتھوں سے گلے لگا لیا۔ انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کو پہچان کر آپ ﷺ کے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون اس غلام کو خریدے گا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر تو آپ مجھے بے وقعت پائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن تم اللہ کے نزدیک قیمتی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5291
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 274، حدیث 5310