المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زهير بن علقمة الثقفي " كان ينزل الكوفة ويقال البجلي " باب: سیدنا زہیر بن علقمہ ثقفی رضی اللہ عنہ، کوفہ میں رہتے تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی تھے
حدیث نمبر: 5288
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، ثنا إِيَادٌ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنٍ لَهَا مَاتَ، فَكَأَنَّ الْقَوْمَ عَنَّفُوهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ مَاتَ لِي اثْنَانِ مُذْ دَخَلْتُ الْإِسْلَامَ سِوَى هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ احْتِظَارًا شَدِيدًا»ترجمہ
سیدنا زہیر بن علقمہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …لوگوں نے گویا اس عورت کو ملامت کی تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! اس کے علاوہ جب سے میں اسلام میں داخل ہوئی ہوں میرے دو بچے فوت ہو چکے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم نے آگ سے اپنے آپ کو خوب مضبوطی سے بچا لیا ہے۔“