المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد باب: بسر بن سعید کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5216
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَسْأَلُهُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لِأَنْ يَقُومَ فِي مَقَامِهِ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي» قَالَ: «فَلَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا»ترجمہ
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں: مجھے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ ان سے پوچھوں کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”نمازی کے آگے سے گزرنے کی بجائے اگر گزرنے والا چالیس تک اپنی جگہ کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“ راوی نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے چالیس سال فرمایا یا چالیس مہینے یا چالیس دن۔