المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب، عن زيد بن خالد الجهني باب: سعید بن مسیب کی سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5201
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ طُعْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا مِنَ الْمَعْزِ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ جَذَعٌ قَالَ: «ضَحِّ بِهِ»ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم فرمائے تو مجھے بکریوں میں سے ایک کم عمر (جذع) بکرا ملا۔ میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یہ تو جذع ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر لو۔“