المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب، عن زيد بن خالد الجهني باب: سعید بن مسیب کی سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5198
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ طُعْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُضَحِّي بِهَا؟ فَإِنَّهَا جَذَعَةٌ مِنَ الْمَعْزِ، فَقَالَ: «نَعَمْ» فَضَحَّيْتُ بِهَاترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں قربانی کی بکریاں تقسیم کیں، مجھے ایک کم عمر (جذعہ) بکری کا بچہ دیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ یہ تو بکری کی جذعہ ہے۔ فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ میں نے اس کی قربانی کی۔