المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن سعنة " توفي في غزوة تبوك " باب: سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ، غزوہ تبوک میں وفات پائی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيُّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هُدَى زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ، يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ وَلَا تَزِيدُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، فَكُنْتُ أَلْطُفُ لَهُ لِأَنْ أُخَالِطَهُ، فَأَعْرِفَ حِلْمَهُ مِنْ جَهْلِهِ. قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَالْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بُصْرَى قَرْيَةَ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا، وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَكُنْتُ حَدَّثَتْهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ وَشِدَّةٌ وقُحُوطٌ مِنَ الْغَيْثِ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُعِينُهُمْ بِهِ فَعَلْتَ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ أُرَاهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: «لَا يَا يَهُودِيُّ، وَلَكِنِّي أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا، وَلَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ» قُلْتُ: بَلَى، فَبَايَعَنِي فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي، فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْطَاهَا الرَّجُلَ، فَقَالَ: «اغْدُ عَلَيْهِمْ فَأَعِنْهُمْ بِهَا» فَقَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَقْضِيَنِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي؟ فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَطْلٌ، وَلَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عَلِمٌ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ، وَإِذَا عَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْمَعُ، وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ فِي سُكُونٍ وتُؤَدَةٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ، أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ، وتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ وأَعْطِهِ حَقَّهُ وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رَوَّعْتَهُ» قَالَ زَيْدٌ: فَذَهَبَ بِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَعْطَانِي حَقِّي، وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ؟ فَقَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رَوَّعْتُكَ، قُلْتُ: وتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ، قَالَ: الْحَبْرُ، قُلْتُ: الْحَبْرُ، قَالَ: فَمَا دَعَاكَ أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتَ وَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ؟ قُلْتُ: يَا عُمَرُ، لَمْ تَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ، يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا يَزِيدُهُ الْجَهْلُ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، فَقَدْ أُخْبِرْتُهُمَا، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي - وَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا - صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ. قُلْتُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً، ثُمَّ تُوُفِّي زَيْدٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، رَحِمَ اللهُ زَيْدًا(ایک شخص نے عرض کیا:) یا رسول اللہ! اس میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں: تو میں آپ ﷺ کے قریب ہوا اور عرض کیا: اے محمد! کیا آپ مجھ سے بنو فلاں کے باغ سے ایک معلوم مقدار میں کھجور اتنی اتنی مدت تک ادھار بیچیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اے یہودی! البتہ میں تمہیں معلوم کھجور اتنی مدت تک بیچتا ہوں، لیکن بنو فلاں کے باغ کا نام نہ لو۔“ میں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھ سے سودا کیا، اور میں نے اپنی تھیلی کھولی اور آپ ﷺ کو اسی مدت کے لیے معلوم کھجور کے بدلے اسی مثقال سونا دیا، آپ ﷺ نے وہ ایک آدمی کو دے دیا اور فرمایا: ”ان کے پاس جاؤ اور اس سے ان کی مدد کرو۔“ زید بن سعنہ کہتے ہیں: جب مقررہ مدت میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے قمیص اور چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اور سخت چہرے سے آپ ﷺ کی طرف دیکھا، اور کہا: اے محمد! کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ اللہ کی قسم! میں تم بنو عبدالمطلب کو ٹال مٹول کرنے والا ہی جانتا ہوں، تمہارے ساتھ لین دین میں مجھے تجربہ ہو چکا ہے۔ اور میں نے عمر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں چہرے میں گھومتی چکر کی طرح گھوم رہی تھیں، پھر انہوں نے مجھ پر اپنی نظر ڈالی اور کہا: اے اللہ کے دشمن! جو کچھ میں سن رہا ہوں تم رسول اللہ ﷺ سے وہ کہہ رہے ہو، اور جو میں دیکھ رہا ہوں ان کے ساتھ وہ کر رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ آپ ﷺ کچھ فرمانا چاہتے ہیں، تو میں اپنی تلوار سے تمہارا سر اڑا دیتا۔ اور رسول اللہ ﷺ سکون اور اطمینان سے عمر کی طرف دیکھ رہے تھے، پھر فرمایا: ”اے عمر! مجھے اور اسے اس کے سوا کسی اور چیز کی زیادہ ضرورت تھی، کہ تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کا حکم دو اور اسے اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا حکم دو۔ اسے لے جاؤ، اے عمر، اور اس کا حق ادا کرو، اور اسے بیس صاع کھجور اضافی دو، اس ڈر کے بدلے جو تم نے اسے دلایا۔“ زید کہتے ہیں: چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے لے گئے، انہوں نے میرا حق ادا کیا اور بیس صاع کھجور زیادہ دی۔ میں نے پوچھا: یہ اضافہ کیسا ہے، اے عمر؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اس ڈر کے بدلے میں جو تمہیں دلایا گیا تمہیں زیادہ دوں۔ میں نے کہا: اے عمر! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ کہا: نہیں، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں۔ کہا: (یہودی) عالم؟ میں نے کہا: ہاں، عالم۔ کہا: تو تمہیں کس چیز نے اکسایا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وہ کیا جو کیا اور ان سے وہ کہا جو کہا؟ میں نے کہا: اے عمر! نبوت کی کوئی نشانی ایسی نہ تھی جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو دیکھتے ہی نہ پہچان لیا ہو، سوائے دو کے جن کا مجھے تجربہ نہیں تھا: ان کا بردباری ان کی سخت مزاجی پر غالب رہنا، اور جہالت انہیں مزید بردبار ہی بناتی ہے۔ اب مجھے ان دونوں کا بھی تجربہ ہو گیا، پس اے عمر! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر، اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہو گیا، اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرے مال کا آدھا حصہ - اور میں سب سے زیادہ مال والا ہوں - محمد ﷺ کی امت پر صدقہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا ان میں سے کچھ پر، کیونکہ تم سب کو نہیں سنبھال سکتے۔ میں نے کہا: یا ان میں سے کچھ پر۔ چنانچہ عمر اور زید، رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے، تو زید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائے، آپ ﷺ کی تصدیق کی، آپ ﷺ کی بیعت کی، اور آپ ﷺ کے ساتھ کئی معرکوں میں شریک رہے، پھر زید غزوہ تبوک میں، آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے، وفات پا گئے، اللہ زید پر رحم فرمائے۔