❮
❯
حدیث نمبر: 5114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، فَقَالُوا: يَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: ١٠٢] ، قَالَ: «فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ»
ترجمہ

ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عُسفان میں تھے، تو مشرکین ہمارے سامنے آئے جن پر خالد بن ولید سالار تھا، اور وہ ہمارے اور قبلے کے درمیان تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے (مشرکین نے) کہا: کاش ہم ان پر غفلت کی حالت میں حملہ کر پاتے۔ پھر انہوں نے کہا: اب ان پر ایک ایسی نماز آنے والی ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ”اور جب آپ ان میں ہوں اور ان کے لیے نماز قائم کریں“ [النساء: 102]۔ راوی کہتے ہیں: پھر نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا، چنانچہ انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو ہم سب نے اٹھایا، پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے قریب والی صف کے ساتھ سجدہ کیا، جبکہ دوسری صف کھڑی ان کی نگہبانی کرتی رہی۔ جب یہ سجدے سے فارغ ہو کر کھڑے ہوئے تو دوسری صف بیٹھی اور سجدہ کیا، پھر آپ ﷺ نے انہیں سلام پھیرا اور واپس ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ نماز دو بار پڑھی، ایک بار عسفان میں اور ایک بار بنو سلیم کی سرزمین میں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5114
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 214، حدیث 5133