❮
❯
حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «مَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ»
ترجمہ

ایاس بن ابی رملہ شامی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس موقع پر حاضر تھے جب دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئیں؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا: تو آپ ﷺ نے کیا کیا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دی اور فرمایا: ”جو چاہے جمعہ پڑھ لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5101
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 209، حدیث 5120