المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إياس بن أبي رملة الشامي، عن زيد بن أرقم باب: ایاس بن ابی رملہ شامی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعَ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «مَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ»ترجمہ
(ایاس بن ابی رملہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا:) کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس موقع پر حاضر تھے جب دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئیں؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا: تو آپ ﷺ نے کیا کیا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دی اور فرمایا: ”جو چاہے جمعہ پڑھ لے۔“