المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ميمون أبو عبد الله، عن زيد بن أرقم باب: میمون ابوعبداللہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ: «إِنَّهُ لَابُدَّ مِنْ أَنْ تُقِيمَ أَوْ أُقِيمَ» فَخَلَفَهُ، فَقَالَ نَاسٌ: مَا خَلَفَهُ إِلَّا لِشَيْءٍ كَرِهَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ فَتَضَاحَكَ ثُمَّ قَالَ: «يَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي»سیدنا براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے، جب آپ ﷺ نے کسی غزوے کا ارادہ کیا، فرمایا: ”ضروری ہے کہ یا تو تم مدینہ میں ٹھہرو یا میں ٹھہروں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں مدینہ میں چھوڑ دیا۔ تو کچھ لوگوں نے کہا: انہیں کسی ناپسندیدہ وجہ سے ہی چھوڑا گیا ہوگا۔ یہ بات علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، آپ ﷺ ہنس پڑے، پھر فرمایا: ”اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے نزدیک تمہارا وہی درجہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟“