المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ميمون أبو عبد الله، عن زيد بن أرقم باب: میمون ابوعبداللہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5073
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَأَنَا أَسْمَعُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ وَادِي خُمٍّ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّاهَا بِالْهَجِيرِ، فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»ترجمہ
(رسول اللہ ﷺ نے) نماز کا حکم دیا تو اسے سخت گرمی کے وقت ادا کیا، پھر ہمیں خطبہ دیا، اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک درخت پر کپڑا تان کر دھوپ سے سایہ کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن مرد و عورت کی جان پر اس کی اپنی جان سے زیادہ حق دار ہوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”تو جس کا میں مولیٰ ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“