❮
❯
حدیث نمبر: 5063
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، يَقُولُ: {لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: ٧] فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ وَأَتَاهُ ابْنُ أُبَيٍّ فَحَلَفَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ، قَالَ: فَأَتَانِي أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَامُونِي، فَأَتَيْتُ مَنْزِلِي فَنِمْتُ، قَالَ: كَأَنَّهُ كَئِيبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، - أَوْ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ» وَتَلَا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ} [المنافقون: ٧] حَتَّى خَتَمَ الْآيَتَيْنِ
ترجمہ

محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے عبداللہ بن اُبَی بن سلول کو کہتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ [المنافقون: 7]۔ تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا۔ ابن اُبَی بھی آپ ﷺ کے پاس آیا اور قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میرے پاس آئے اور مجھے ملامت کرنے لگے، تو میں اپنے گھر گیا اور سو گیا، گویا میں غمگین تھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے مجھے بلا بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس گیا - یا کہا: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا - تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں سچا ثابت کر دیا اور تمہیں معذور قرار دیا۔“ اور آپ ﷺ نے یہ دونوں آیات پڑھیں: ”یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس رہنے والوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ [المنافقون: 7]، یہاں تک کہ دونوں آیات مکمل پڑھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5063
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 199، حدیث 5082