المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن حيان التيمي، عن زيد بن أرقم باب: یزید بن حیان تیمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، أَوْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا، أَصَحِبْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ خَيْرًا، وَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ إِنَّمَا أُخِّرْتُ لِشِرٍّ، مَا حَدَّثَكُمْ فَاقْبَلُوا، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَدَعُوهُ، قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَخَطَبَنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَنَا بِشْرٌ يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ اثْنَيْنِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ حَبَلُ اللهِ، مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَأَهْلُ بَيْتِي؟ أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: «لَا، إِنَّ الْمَرْأَةَ قَدْ يَكُونُ يَتَزَوَّجُ بِهَا الرَّجُلُ الْعَصْرَ مِنَ الدَّهْرِ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى أَبِيهَا وَأُمِّهَا، أَهْلُ بَيْتِهِ أَهْلُهُ وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، آلُ عَلِيٍّ وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَقِيلٍ»یزید بن حیان تیمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ہم نے عرض کیا: آپ نے بڑی بھلائی دیکھی ہے، آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی رہے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے فرمایا: بےشک میں نے بھلائی دیکھی ہے، اور مجھے یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں مجھے کسی برائی کی وجہ سے پیچھے نہ رکھا گیا ہو۔ جو کچھ وہ (رسول اللہ ﷺ) تمہیں بتائیں اسے قبول کرو، اور جس چیز سے وہ خاموش رہیں اسے چھوڑ دو۔ رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی میں کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”میں ایک بشر ہوں، قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے اور میں جواب دوں، اور میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے، جس میں اللہ کی رسی ہے، جو اس کی پیروی کرے وہ ہدایت پر ہے اور جو اسے چھوڑ دے وہ گمراہی پر ہے۔ اور میرے اہل بیت؟ میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں اپنے اہل بیت کے بارے میں۔“ یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی۔ ہم نے عرض کیا: کیا آپ ﷺ کے اہل بیت آپ ﷺ کی بیویاں ہیں؟ فرمایا: ”نہیں، عورت تو کبھی کسی آدمی کے نکاح میں کچھ عرصہ رہتی ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے ماں باپ کے پاس واپس چلی جاتی ہے۔ آپ ﷺ کے اہل بیت آپ ﷺ کے اہل اور وہ قرابت دار ہیں جن پر آپ ﷺ کے بعد صدقہ حرام کر دیا گیا: آل علی، آل عباس، آل جعفر اور آل عقیل۔“