حدیث نمبر: 4997
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجَهَا فَجَاءَ بِهَا فَجَعَلَ كُلَّمَا حَلَّ عُقْدَةً وَجَدَ لِذَلِكَ خِفَّةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَهُودِيَّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ "
ترجمہ

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: یہود میں سے ایک شخص نے نبی کریم ﷺ پر جادو کر دیا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ کئی دن بیمار رہے۔ پھر جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یہود میں سے ایک شخص نے آپ پر جادو کیا ہے، اس نے آپ کے لیے کچھ گرہیں باندھی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کی طرف بھیجا، انہوں نے وہ گرہیں نکالیں اور لے آئے۔ آپ ﷺ جوں جوں ایک گرہ کھولتے جاتے، اتنی ہی ہلکا پن محسوس کرتے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ ایسے اٹھے جیسے کسی بندھن سے آزاد ہوئے ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے کبھی اس یہودی کا ذکر نہ کیا اور نہ کبھی اسے اپنے چہرے پر (ناگواری سے) دیکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4997
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 180، حدیث 5016