المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قطبة بن مالك، عن زيد أرقم باب: قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4955
حَدَّثَنَا أَبُو الشَّيْخِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا مُحَمَّدٌ السَّقَطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ فَقَامَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ؟ فَلِمَ تَسُبَّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ؟ترجمہ
زیاد بن علاقہ کے چچا بیان کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا بات کہی)، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مُردوں کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے؟ تو تم علی کو برا کیوں کہتے ہو جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں؟