المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة، عن زيد بن أرقم باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو كَثِيرِ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ، أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمْتُ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ، إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا؟ فَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ مَوْلَاي، وَأَنَا وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ رَآهُ بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع سے واپس ہوئے اور غدیر خم کے مقام پر اترے تو آپ ﷺ نے (درختوں کے نیچے صفائی کا) حکم دیا، میں کھڑا ہوا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”گویا مجھے بلا لیا گیا ہے اور میں نے جواب دے دیا ہے۔ میں تم میں دو بھاری امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ کی کتاب اور میری عترت، یعنی میرے اہل بیت۔ سو دیکھو، تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو؟ کیونکہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آ ملیں۔“ پھر فرمایا: ”بیشک اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کے یہ (علی) مولیٰ ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“ میں نے زید سے پوچھا: کیا آپ نے یہ خود رسول اللہ ﷺ سے سنا؟ تو انہوں نے کہا: درختوں کے نیچے موجود لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے نہ سنا ہو۔