حدیث نمبر: 4891
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: كُنْتُ بِالْأَسْوَاقِ مَعَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَخَذُوا طَيْرًا، فَدَخَلَ زَيْدٌ، فَدَفَعُوهُ فِي يَدِي، فَأَخَذَ الطَّيْرَ فَأَرْسَلَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ فِي قَفَاي وَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ أَلَمْ تَعْلَمْ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا»
ترجمہ

… شرحبیل بیان کرتے ہیں: میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازاروں میں تھا کہ لوگوں نے ایک پرندہ پکڑ لیا۔ زید رضی اللہ عنہ آ گئے تو لوگوں نے وہ پرندہ میرے ہاتھ میں دے دیا، انہوں نے وہ پرندہ لے کر چھوڑ دیا، پھر میری گردن پر مار کر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی دونوں پتھریلی زمینوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیا ہے؟

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4891
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 150، حدیث 4910