حدیث نمبر: 4884
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا، أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ جَالِسٌ عَنْدَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ " قَالَ: " قُلْتُ: وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِزَيْدٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ "، قَالَ زَيْدٌ: «فَوَاللهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ» قَالَ: " قُلْتُ: وَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ بِي أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ " قَالَ: " فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: ١٢٨] حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ «وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ»
ترجمہ

… ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زید سے فرمایا: تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہمیں تم پر کوئی شک نہیں، تم رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتے تھے، تو قرآن کی تلاش کرو اور اسے جمع کرو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھانے کا حکم دیتے تو وہ اتنا بھاری نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم بھاری تھا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: تم لوگ ایسا کام کیسے کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟ ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر ہی ہے۔ ابوبکر مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اسی کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے اس نے ابوبکر کا سینہ کھولا تھا۔ کہتے ہیں: میں نے قرآن کو چمڑے کے ٹکڑوں، کھجور کے پتوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کیا، یہاں تک کہ مجھے سورۃ التوبہ کی آخری آیت خزیمہ یا ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، ان کے سوا کسی اور کے پاس نہ ملی: ”بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے“ [سورۃ التوبہ: 128] تا خاتمۂ سورۃ براءت۔ یہ نسخے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں وفات دی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر ان کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں وفات دی، پھر حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4884
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 148، حدیث 4903