المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن السباق، عن زيد بن ثابت باب: عبید بن سباق کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: " أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةَ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْدَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَانِي هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ لِي: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ لَا يُوعَى، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ بِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ وَعُمَرُ جَالِسٌ عَنْدَهُ لَا يَتَكَلَّمُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ وَلَا نَتَّهِمُكَ، وَكُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهٌ "، قَالَ زَيْدٌ: «فَوَاللهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمَعِ الْقُرْآنِ» ، قَالَ: " قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ بِهِ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " قَالَ: " فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالْأَكْتَافِ وَالْأَقْتَابِ وَالْعُسُبِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: ١٢٨] ، فَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جَمَعْتُ فِيهَا الْقُرْآنَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ "سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اہلِ یمامہ کی جنگ کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس موجود تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ شخص (عمر) میرے پاس آئے اور کہنے لگے: یمامہ کے دن مسلمانوں کے قراء میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے، اور مجھے خدشہ ہے کہ دیگر مقامات پر بھی قراء کا اسی طرح قتل ہوتا رہا تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا جو محفوظ نہ رہ سکے گا، اس لیے میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں۔ میں نے عمر سے کہا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟ عمر نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر ہی ہے۔ عمر مجھ سے اس بارے میں بار بار بات کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اسی کام کے لیے کھول دیا، اور میں نے بھی وہی رائے قائم کر لی جو عمر کی تھی، جبکہ عمر ان کے پاس بیٹھے خاموش تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہمیں تم پر کوئی شک نہیں، اور تم رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتے تھے، تو قرآن کی تلاش کرو اور اسے جمع کرو۔ زید کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھانے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اتنا بھاری نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنے کا حکم بھاری تھا۔ میں نے کہا: تم لوگ ایسا کام کیسے کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟ ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر ہی ہے۔ ابوبکر مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اسی کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے اس نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور چمڑے کے ٹکڑوں، شانے کی ہڈیوں، کجاووں، کھجور کے پتوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کرتا رہا، یہاں تک کہ سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں مجھے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں، ان کے سوا کسی اور کے پاس نہ ملیں: ”بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے“ [سورۃ التوبہ: 128]۔ چنانچہ جن نسخوں میں میں نے قرآن جمع کیا تھا وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر ان کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں وفات دی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں وفات دی، پھر حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔