حدیث نمبر: 4797
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، جَالِسًا، فَجَلَسْتُ عَنْدَهُ فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ} [النساء: ٩٥] {وَالْمُجَاهِدُونَ} [النساء: ٩٥] " فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ فَخِذُهُ عَلَيَّ، حَتَّى كَادَتْ فَخِذِي تَرُضُّ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥]
ترجمہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو مروان بن حکم بیٹھے تھے، میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے یہ آیت لکھوائی: ”بغیر عذر بیٹھے رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں“ [سورۃ النساء: 95]۔ اس پر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا۔ اس پر اللہ عزوجل نے آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی، جبکہ آپ ﷺ کی ران میری ران پر تھی، تو آپ ﷺ کی ران میرے اوپر اتنی بھاری ہو گئی کہ میری ران کچلی جاتی معلوم ہوئی، پھر آپ ﷺ سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”سوائے معذوروں کے“ [سورۃ النساء: 95]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 122، حدیث 4814