المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أنس بن مالك، عن زيد بن ثابت باب: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا ثَابِتٌ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، بِالزَّاوِيَةِ إِذْ سَمِعَ الْأَذَانَ، فَنَزَلَ وَنَزَلَتُ مَعَهُ، فَلَمَّا أَنِ اسْتَوَى عَلَى الْأَرْضِ مَشَى بِي، ثُمَّ قَارَبَ فِي الْخُطَى حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَتَدْرِي يَا ثَابِتُ لِمَ مَشَيْتُ بِكَ هَذِهِ الْمِشْيَةَ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَى بِي هَذِهِ الْمِشْيَةَ، وَقَالَ: «أَتَدْرِي لِمَ مَشَيْتُ بِكَ هَذِهِ الْمِشْيَةَ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «لِيَكْثُرَ عَدَدُ الْخُطَى فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ»ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ زاویہ میں تھا کہ انہوں نے اذان سنی، تو وہ (سواری سے) اترے اور میں بھی ان کے ساتھ اترا۔ جب وہ زمین پر سیدھے کھڑے ہوئے تو مجھے ساتھ لے کر چلے، پھر قدم چھوٹے چھوٹے کر لیے یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہو گیا، تو انہوں نے فرمایا: ثابت! کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں مسجد میں داخل ہونے تک اس طرح کیوں چلایا؟ نبی کریم ﷺ نے مجھے اسی طرح چلایا تھا اور فرمایا تھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں اس طرح کیوں چلایا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تاکہ نماز کی تلاش میں قدموں کی تعداد زیادہ ہو جائے۔“