المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل بن أبي حثمة، عن زيد بن ثابت باب: سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4771
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ ثُمَّ يَخْتَصِمُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِذَا فَعَلْتُمْ هَذَا فَلَا تَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ»ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ پھل ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس کی خرید و فروخت کر لیتے تھے، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”چونکہ تم ایسا کرتے ہو، تو پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔“