المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن ثابت الأنصاري يكنى أبا سعيد ويقال أبو خارجة باب: سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوسعید تھی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابوخارجہ تھی
حدیث نمبر: 4721
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِي، عَنْ جَدِّي، عُقْبَةَ بْنِ فَاكِهٍ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَخَرَجَ إِلَيَّ مُتَّزِرًا بِيَدِهِ الرُّمْحُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا خَارِجَةَ مَا بَالُ الرُّمْحِ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: «كُنْتُ أَطْلُبُ هَذِهِ الدَّابَّةَ الْخَبِيثَةَ الَّتِي يَكْتُبُ اللهُ بِقَتْلِهَا الْحَسَنَةَ وَيَمْحُو بِهَا السَّيِّئَةَ وَهِي الْوَزَغُ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے ماموں نے اپنے دادا عقبہ بن فاکہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ تہبند باندھے ہاتھ میں نیزہ لیے باہر نکلے۔ میں نے کہا: ابوخارجہ! اس وقت نیزے کی کیا ضرورت؟ انہوں نے کہا: میں اس گندے جانور کی تلاش میں تھا جسے مارنے پر اللہ نیکی لکھتا ہے اور اس سے گناہ مٹا دیتا ہے، یعنی چھپکلی۔