المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه باب: عبداللہ بن ابی طلحہ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَسَأَلْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَأَشَارَتْ بِكَفَّيْهَا، فَقَالَتْ: عِنْدِي شَيْءٌ، فَقُلْتُ: اصْنَعِي اعْجِنِي وَأَرْسَلْتُ أَنَسًا، فَقُلْتُ: ائْتِهِ فَسَارَّهُ فِي أُذُنِهِ وَادْعُهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا رَجُلٌ قَدْ أَتَاكُمْ بِخَيْرٍ، بِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا؟» قَالَ أَنَسٌ: نَعَمْ، فَاسْتَقْبَلْتُهُ قَالَ: «قُومُوا بِسْمِ اللهِ» فَأَدْبَرَ أَنَسٌ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَراحِ الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ: مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ، فَصَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ فَقَالَ: «ادْخُلْ وَأَبْشِرْ» فَدَخَلَ فَأَتَى بَصَحْفَتِهِمْ فَجَعَلَ يُسَوِّيها بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: " هَلْ مِنْ، كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدُمَ، فَأَتَوْهُ بِعِكَّتِهِمْ فِيهَا شَيْءٌ أَوْ لَيْسَ فِيهَا، فَقَالَ بِيَدِهِ فَانْسَكَبَ مِنْهَا السَّمْنُ فَقَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً» قَالَ: وَهُمْ زُهَاءُ مِائَةٍ، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ: وَسَلَّمَ لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ: «كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيالُكُمْ» فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا "… ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے پاس کچھ ہے۔ میں نے کہا: تو اسے تیار کرو، آٹا گوندھو۔ اور میں نے انس کو بھیجا اور کہا: ان کے پاس جاؤ، ان کے کان میں چپکے سے بات کرو اور انہیں بلا لاؤ۔ جب انس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آدمی تمہارے پاس خیر لے کر آیا ہے، تیرے والد نے تجھے کس لیے بھیج کر ہمیں بلایا ہے؟“ انس نے کہا: جی ہاں، تو میں نے آپ ﷺ کا سامنا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے اٹھو۔“ انس دوڑتے ہوئے واپس گئے یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچے اور کہا: یہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سمیت آپ کے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ ابوطلحہ کہتے ہیں: میں نے دروازے پر سیڑھی کی چبوتری کے پاس آپ ﷺ کا استقبال کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمارے ساتھ یہ کیا کر دیا؟ میں نے تو صرف آپ کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے تھے، تو میں نے آپ کے لیے کچھ کھانے کی چیز بنائی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اندر آؤ اور خوش ہو جاؤ۔“ چنانچہ آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے، ان کا کھانے کا برتن لایا گیا، آپ ﷺ اسے اپنے ہاتھ سے ٹھیک کرنے لگے، پھر فرمایا: ”کیا کوئی سالن ہے؟“ گویا آپ ﷺ کی مراد روٹی کے ساتھ کھانے کی چکنائی سے تھی۔ وہ اپنا گھی کا برتن لائے، جس میں کچھ تھا یا نہیں تھا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو اس میں سے گھی بہنے لگا۔ پھر فرمایا: ”دس دس آدمیوں کو اندر بھیجو۔“ وہ لوگ تقریباً سو آدمی تھے، وہ اندر آئے اور کھا کر سیر ہو گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے بچے ہوئے کھانے کے بارے میں فرمایا: ”تم اور تمہارے گھر والے بھی کھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے بھی کھایا اور سیر ہو گئے۔