حدیث نمبر: 4684
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَأُلْقُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطَاوِي بَدْرٍ حَيْثُ جَيَّفَتْ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ، فَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، قَالُوا: مَا نَرَاهُ مُنْطَلِقًا إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، ثُمَّ أَتَى شُقَّةَ الْبِئْرِ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَدِدْتُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ أَطَعْتُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَقَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا» قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُكِلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ» قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ قَتَادَةُ: «أَحْيَاهُمُ اللهُ وَاللهِ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ»
ترجمہ

… جب تیسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا، اس پر کجاوہ کسا گیا، پھر آپ ﷺ پیدل چل پڑے اور صحابہ آپ ﷺ کے پیچھے چلے، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں لگتا ہے کہ آپ ﷺ کسی ضرورت کے لیے جا رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ کنویں کے کنارے آئے اور فرمایا: ”اے فلاں بن فلاں، اور اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں پسند نہ ہوتا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، تم میری بات ان سے زیادہ نہیں سن سکتے۔“ سعید کہتے ہیں: قتادہ نے کہا: ”اللہ نے انہیں زندہ کیا، اللہ کی قسم، یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کی بات سن لی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4684
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 96، حدیث 4701