المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند زيد باب: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ، فَذَبَحْنَا لَهُ شَاةً ثُمَّ صَنَعْنَاهَا فِي الْإِرَّةِ، فَلَمَّا نَضِجَتِ اسْتَخْرَجْنَاها فِي سُفْرَتِنَا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَهُوَ مُرْدِفِي فَلَمَّا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ لَقِيَهُ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، فَحَيَّا أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنِفُوكَ وكَرَهُوكَ؟» فَقَالَ: وَاللهِ إِنَّ ذَلِكَ مِنْهُمْ لَبِغَيْرِ مَا ثَائِرَةٍ كَانَتْ مِنِّي إِلَيْهِمْ إِلَّا أَنِّي أَرَاهُمْ فِي ضَلَالٍ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ، حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى أَحْبَارِ خَيْبَرَ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللهَ، ويُشْرِكُونَ بِهِ، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا هَذَا بِالدَّيْنِ الَّذِي أَبْتَغِي بِهِ فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى أَحْبَارِ الشَّامِ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللهَ ويُشْرِكُونَ بِهِ، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا هَذَا بِالدَّيْنِ الَّذِي خَرَجْتُ أَبْتَغِي، فَقَالَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الشَّامِ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دَيْنٍ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَعْبُدُ اللهَ بِهِ إِلَّا شَخْصًا بِالْجَزِيرَةِ، فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي خَرَجْتُ لَهُ، فَقَالَ لِي: إِنَّ كُلَّ مِنْ رَأَيْتَ فِي ضَلَالٍ، وَإِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دَيْنِ اللهِ وَمَلَائِكَتِهِ، وَقَدْ خَرَجَ فِي أَرْضِكَ نَبِيٌّ أَوْ هُوَ خَارِجٌ، فَارْجِعْ فَصَدِّقْهُ وَآمِنْ بِهِ، فَرَجَعْتُ فَلَمْ أَخْتَبِرْ نَبِيًّا بَعْدُ، قَالَ: فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، فَوَضَعَ السُّفْرَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبِ كَذَا كَذَا» ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو: إِنَّا لَا نَأْكُلُ شَيْئًا ذُبِحَ لِغَيْرِ اللهِ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَا، قَالَ: وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَبْلَ أنْ يُبْعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ»سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ (اپنی اونٹنی پر سوار تھے) اور میں آپ کے پیچھے سوار تھا، جب ہم مکہ کی بلندی پر پہنچے تو زید بن عمرو بن نفیل ان سے ملے، تو دونوں نے ایک دوسرے کو جاہلیت کے انداز میں سلام کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تم سے نفرت اور بیزاری کرنے لگی ہے؟“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ان کی طرف سے میرے کسی انتقامی رویے کی وجہ سے نہیں، بلکہ میں انہیں گمراہی میں دیکھتا ہوں، اس لیے میں اس دین کی تلاش میں نکلا۔ یہاں تک کہ میں خیبر کے علماء کے پاس پہنچا، تو دیکھا کہ وہ اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وہ دین نہیں جس کی میں تلاش میں ہوں۔ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ شام کے علماء کے پاس پہنچا، تو دیکھا کہ وہ بھی اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بھی وہ دین نہیں جس کی تلاش میں نکلا ہوں۔ اس پر شام کے علماء میں سے ایک عالم نے کہا: تم ایک ایسے دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو جس پر ہم کسی کو عمل کرتے نہیں جانتے سوائے جزیرہ عرب میں ایک شخص کے۔ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ میں کس مقصد کے لیے نکلا ہوں۔ اس نے مجھ سے کہا: جتنے لوگ تم نے دیکھے ہیں وہ سب گمراہی میں ہیں، اور تم اللہ اور اس کے فرشتوں کے دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو، جبکہ تمہاری سرزمین میں ایک نبی ظاہر ہو چکا ہے یا ظاہر ہونے والا ہے، تو واپس جاؤ اور اس کی تصدیق کرو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ چنانچہ میں واپس آ گیا اور اس کے بعد سے کسی نبی کو نہیں آزمایا۔“ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بٹھائی، اور اس کے سامنے دستر خوان رکھا گیا، تو زید بن عمرو نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا: ”یہ بکری ہے جو ہم نے فلاں فلاں بت کے نام پر ذبح کی ہے۔“ زید بن عمرو نے کہا: میں تو کوئی ایسی چیز نہیں کھاتا جو غیراللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔ پھر ہم جدا ہو گئے۔ کہتے ہیں: اور زید بن عمرو بن نفیل رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی وفات پا گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن وہ اکیلے ایک امت بن کر اٹھائے جائیں گے۔“