❮
❯
حدیث نمبر: 4635
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: " زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ عَامِرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ عَوْفِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُذْرَةَ بْنِ زَيْدِ اللهِ بْنِ رُفَيْدَةَ بْنِ ثَوْرِ بْنِ كَلْبِ بْنِ وَبَرَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ قُضَاعَةَ، وَيُقَالُ: إِنَّ أُمَّ زَيْدٍ سُعَادُ بِنْتُ زَيْدٍ مِنْ طَيِّئٍ "
قَالَ: ابْنُ هِشَامٍ: وَكَانَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَيْفًا، فَاسْتَوْهَبَتْهُ مِنْهُ عَمَّتُهُ خَدِيجَةُ، وَهِي يَوْمَئِذٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَهُ لَهَا، فَوَهَبَتْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْتَقَهُ وَتَبَنَّاهُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ، وَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُوهُ وَهُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ عِنْدِي، وَإِنْ شِئْتَ فَانْطَلِقْ مَعَ أَبِيكَ» قَالَ: بَلْ أُقِيمُ عِنْدَكَ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَعَثَهُ اللهُ، فَصَدَّقَهُ وَأَسْلَمَ وَصَلَّى مَعَهُ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} [الأحزاب: ٥] قَالَ: أَنَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ
ترجمہ

زید بن حارثہ بن شراحیل بن کعب بن عبدالعزیٰ بن امرئ القیس بن عامر بن نعمان بن عامر بن عبدود بن عوف بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید اللہ بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن وبرہ بن حارث بن قضاعہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ زید کی والدہ سعاد بنت زید تھیں جو قبیلہ طے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابن ہشام کہتے ہیں: حکیم بن حزام شام سے زید بن حارثہ کو ایک غلام لڑکے کی صورت میں لے کر آئے تھے، تو ان کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے زید کو ہبہ میں مانگ لیا - اور وہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں تھیں - تو حکیم نے انہیں زید دے دیا، پھر انہوں نے زید کو رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا اور اپنا بیٹا بنا لیا، اور یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے۔ ان کے والد ان کے پاس آئے جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر چاہو تو میرے پاس رہو، اور اگر چاہو تو اپنے والد کے ساتھ چلے جاؤ۔“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں آپ کے پاس ہی رہوں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا، تو انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی، اسلام لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”انہیں ان کے باپ کی طرف منسوب کر کے پکارو“ [سورۃ الاحزاب: 5]، تو انہوں نے کہا: میں زید بن حارثہ ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4635
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 83، حدیث 4651