المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
روح بن زنباع الجذامي باب: سیدنا روح بن زنباع جذامی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 4625
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ كُلُّهُمْ ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَهْلَ الْأَرْدُنِّ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رُءُوسُ بَنِي أُمَيَّةَ وَنَاسٌ مِنِ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ أَشْرَافِهِمْ، وَفِيهِمْ رَوْحُ بْنُ زِنْبَاعٍ الْجُذَامِيُّ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ الْمُلْكَ كَانَ فِينَا أَهْلَ الشَّامِ فَيُنْقَلُ ذَلِكَ إِلَى الْحِجَازِ لَا نَرْضَى بِذَلِكَ "ترجمہ
ابومعشر بیان کرتے ہیں کہ جب معاویہ بن یزید کا انتقال ہوا تو اہلِ شام سب کے سب ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کے لیے تیار ہو گئے سوائے اہلِ اردن کے۔ جب بنو امیہ کے سرداروں اور اہلِ شام کے شرفاء میں سے کچھ لوگوں نے یہ دیکھا، اور ان میں روح بن زنباع جذامی بھی شامل تھے، تو انہوں نے آپس میں کہا: بادشاہت تو ہم اہلِ شام میں تھی، اب یہ حجاز کی طرف منتقل ہو جائے گی، ہم اس پر راضی نہیں۔